سری نگر ، 18؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کشمیر میں پلوامہ ضلع کے کھریو میں تلاشی مہم کی مخالفت کر رہے مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں ایک لیکچرر کی موت ہو گئی جبکہ 18دیگر زخمی ہو گئے۔کشمیر میں آج مسلسل 41ویں دن کرفیو اور پابندیوں نافذ ہیں ۔ایک پولیس افسر نے بتایا کہ کل رات کھریو میں جھڑپ کے وقت مار پیٹ کے دوران لیکچرر شبیر احمد موگا کی موت ہو گئی۔وہ کنٹریکٹ پر مقرر تھے۔انہوں نے بتایا کہ دیگر 18لوگوں کو یہاں ایک اسپتا ل میں داخل کرایا گیا ہے جن میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق فوج نے ان نوجوانوں کو پکڑنے کے لیے گھر گھر میں تلاشی لی جو کل دیر رات علاقے میں مظاہروں کی قیادت کر رہے تھے جس کی کھریو میں رہائشیوں نے مخالفت کی تھی۔بعد میں ہوئی جھڑپ میں 30سالہ مونگا کی موت ہو گئی۔ایک فوجی افسر نے بتایا کہ وہ واقعہ کے بارے میں معلومات جمع کر رہے ہیں اور جلد ہی ایک بیان جاری کریں گے۔پورے سری نگر ضلع، اننت ناگ قصبے اور پمپور پولیس تھانہ جس میں کھریوکا علاقہ آتا ہے، میں کرفیو جاری رہا جبکہ باقی وادی میں لوگو کی سرگرمیوں پر پابندیاں نافذ رہیں ۔سیکورٹی فورسز کے ساتھ 8 ؍جولائی کو ہوئے تصادم میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے ہوئے احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے وادی میں معمولات زندگی درہم مصروف ہے۔سری نگر شہر میں بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے اور سوناور میں اقوام متحدہ فوجی نگرانی گروپ(یواین ایم او جی) کے مقامی دفتر کی طرف جانے والی تمام سڑکیں سیل کر دی گئی ہیں۔حکام نے اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف مارچ کرنے کے علیحدگی پسندوں کے اعلان کے پیش نظر شہر میں سختی سے رات میں کرفیو نافذ کردیا ۔اسکول، کالج اور نجی دفاتر بند رہے اور علیحدگی پسندوں کی طرف سے طلب کی گئی ہڑتال کی وجہ سے عوامی گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں ۔سرکاری دفاتر میں بہت کم حاضری درج کی گئی۔وادی میں موبائل انٹرنیٹ اور موبائل ٹیلی فون سروس اب بھی معطل ہیں لیکن پانچ دن کے بعد آج علی الصبا ح برائڈبینڈ کی خدمات دوبارہ شروع کر دی گئیں۔برائڈبینڈ اور موبائل ٹیلی فون سروس ہفتے کی شام روک دی گئی تھیں۔وادی میں 9؍جولائی کو شروع ہوئی پرتشدد جھڑپوں میں اب 64افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ کئی ہزار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔